کاروار 19؍مارچ (ایس اؤ نیوز)ملک اور ریاست میں کورونا متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافے کو لے کر عوام فکر مند ہیں اور عوام کے اندر اس طرح کے سوالات پیدا ہورہے ہیں کہ کیا اترکنڑاضلع میں دوبارہ لاک ڈاؤ ن کے حالات پیدا ہونگے ؟کیونکہ بتایا جارہاہے کہ گوا کی سرحد ماجالی چیک پوسٹ پر صرف غیر قانونی شراب کی جانچ کی جارہی ہے ۔
ضلع بھر میں پھر ایک بار لاک ڈاؤن، سیل ڈاؤن ہونے کی افواہوں پر عوام پیچیدگی کا شکار ہورہےہیں ۔ پھر ایک بار لاک ڈاؤن کی خبر پر عوام گزرے دنوں کی پریشانیوں اورمصیبتوں کو دیکھتے ہوئے گھبرائے ہوئےہیں۔ اسی دوران ریاستی حکومت نے کیرلا اور مہاراشٹرا سے آنے والوں کےلئے کورونا نگیٹیورپورٹ اپنے ساتھ لانا لازمی قرار دیا ہے۔ بدھ کو منعقدہ ضلع پنچایت کی عام میٹنگ میں ضلع پنچایت سی ای اؤ پریانگا نے جانکاری دی تھی کہ کیرلا اور مہاراشٹرا سے آنے والوں پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی۔ لیکن جمعرات کو متعلقہ چک پوسٹ پر جا کر معائنہ کیاگیاتو ماجالی کے چک پوسٹ پر کورونا متاثرین کو لے کر کوئی خاص جانچ نہیں کی جا رہی تھی۔ جمعرات کونیتراوتی ایکسپرس کے ذریعے مہاراشٹراسے کاروار پہنچے کسی بھی شخص کی کوئی خاص جانچ نہیں کی گئی البتہ لازمی طورپر ماسک لگانےکی تاکید کئے جانےکی بات معلوم ہوئی ہے۔
عوام کہہ رہے ہیں کہ عوام میں کورونا کے نام سے خوف پیدا کرنے کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ مگر پیشگی احتیاطی اقدامات کے طور پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے۔
کورونا کی دوسری لہر کو لےکر اترکنڑا ضلع میں افواہوں کا بازار گرم ہے۔ افواہوں کے چلتے مہاراشٹرا اور گوا میں مقیم ضلع اُترکنڑا کے افراد روزانہ فون کے ذریعے سوال کر کے پوچھ رہے ہیں کہ کیا اُنہیں ضلع میں داخل ہونے دیا جائے گا یا نہیں ؟، کیا مہاراشٹرا سے آنے پر پچھلی بار کی طرح کوارنٹائن تو نہیں کیا جائے گا؟،کورونا نگیٹیو رپورٹ نہ ہونے پر کہیں گرفتار تو نہیں کریں گے ؟ اسی طرح عوام کے دلوں میں یہ خوف بھی گھر کرگیا ہے کہ ٹرین کے ذریعے پہنچنے والے مسافروں کی ٹھیک طرح سے جانچ کی جارہی ہے یا نہیں ۔ کہیں انہی لوگوں کی طرف سے دوبارہ ہمارے شہر میں کورونا نہ پھیلے۔
کورونا کی دوسری لہر کو لےکر عوام میں بیداری پیدا کرنا ضروری تو ہے لیکن بے سروپا افواہوں کے ذریعے عوام میں خوف پیدا کرنے والے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنےکی بات بھی کہی جارہی ہے۔